اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ سابق سینیٹر فیصل رضا عابدی نے جیل سے رہائی کے بعد اپنی رہائشگاہ کے باہر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئےکہا ہے کہ آئندہ کوئی لاش گری تو ذمہ دار کا فیصلہ اسی وقت ہوگا، کسی بھی قتل کے ذمہ دار وزیراعظم، وزیر داخلہ اور صوبائی گورنر اور وزیر اعلیٰ ہونگے۔
اس موقع پر علامہ حسن ظفر نقوی اور علامہ قرۃ العین عابدی سمیت دیگر رہنماؤں اور عوام کی بہت بڑی تعداد موجود تھی۔
فیصل رضا عابدی نے کہا کہ اب ہمارے شہداء کے جنازے قائد اعظم کے مزار کے احاطے سے اٹھیں گے، میں نے سیاست چھوڑنے کے بعد اب سیاسی کوچنگ کا آغاز کردیا ہے، 2018ء کے الیکشن کے بعد شہداء کے وارثوں کو بڑی تعداد میں اسمبلی میں پہنچاؤں گا۔
فیصل رضا عابدی نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن ہم سے بہت قریب ہیں کیوں کہ وہ بھی تکفیریت کی زد میں ہیں، جے یو آئی نے میری گرفتاری پر مذمت کی۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے چار سال قبل سنی اتحاد کونسل، وائس آف شہداء اور مجلس وحدت مسلمین کا آپریشن ضرب عضب کی حمایت میں غیر سیاسی اتحاد بنایا، میری گرفتاری کے بعد یہ اتحاد چار روز سے کراچی میں بھی نظر آیا، علامہ مرزا یوسف حسین کا قصور یہ ہے کہ وہ اپنے جوان بیٹوں کے لاشیں اٹھانے کے بعد بھی پرامن رہے، اسلحہ اٹھانا گناہ اور حرام ہے، پر امن جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملیر میں پر امن مظاہرین پر تشدد قابل مذمت ہے، میرے چاہنے والوں نے پندرہ گھنٹے ریاستی جبر کا مقابلہ کیا، سی سی پی او کراچی مشتاق مہر تکفیریوں کا آلہ کار ہے جو سانحہ ناظم آباد کے بعد ڈی جی رینجرز کے خلاف منفی پروپگنڈہ کرتا رہا میرے پاس ثبوت ہیں، چند ایک کے علاوہ پولیس ڈیپارٹمنٹ قابل افسران سے بھرا پڑا ہے، اس کا اندازہ مجھے انویسٹی گیشن کے دوران ہوا، ہم پولیس فوج اور رینجرز کا کل بھی احترام کرتے تھے آج بھی کرتے ہیں آئندہ بھی کریں گے، آئندہ کبھی تفتیش کی ضرورت ہو تو فون کریں میں خود پہنچ جاؤں گا۔








۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲